Chhor Cantt Supply Jobs For Middle Pass Applicants - Rozgar Plus

Saturday, March 28, 2026

Chhor Cantt Supply Jobs For Middle Pass Applicants

 Chhor Cantt Supply Jobs For Middle Pass Applicants 

تعارف:

اسلام علیکم دوستو امید کرتا ہوں آپ سب خیر خیریت سے ہوں گے ، ایک بار پھر نیو جابز لے کر حاضر ہوا ہوں، پاکستان روزگار پلس ایک انٹر نیشنل جابز پلیٹ فارم ہے جو آپ کو پاکستان کی سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کی نوکریوں کی انفارمیشن مہیا کرتا ہے۔ آج آپ کے پاس پاکستان کے سرکاری ادارے پاکستان آرمی کا ادارہ سپلائی ڈپو چھوڑ کینٹ کی مڈل پاس جابز کے بارے میں معلومات فراہم کروں گا۔

ادارے کے بارے انفارمیشن؟

یہ ادارہ پاکستان آرمی کو مختلف چیزیں سپلائی کرتا ہے ، اور آج اس ادارے سپلائی ڈپو چھوڑ کینٹ نے جن حضرات کے پاس تعلیم کی کم ہے مڈل پاس ہیں ، وہ اس جاب پر اپلائی کر سکتے ہیں۔
PAK ARMY CHHOR CANTT JOBS
POST DATE
29 March 2026
LOCATION
Chhor Cantt
SECTOR
Government
COMPANY
Army Supply Company
EDUCATION REQUIRED
Middle,Matric, Inter
AGE REQUIRED
18 to 30
LAST DATE
12 May 2026

کس آسامی کی اناؤنسمنٹ ہوئی ہے؟

آسامی کا نام فائر مین پے جو BPS 2 ہے اور یہ آسامی صرف اور صرف لوکل حضرات اپلائی کر سکتے ہیں، فائرمین ایک اچھا ٹریڈ ہے۔ آپ اس میں ضرور اپلائی کریں۔

فائرمین آسامی کی تعداد کیا ہے؟

اس آسامی میں صرف اور صرف 02 سیٹ ہیں۔ اور وہ صرف لوکل شہری کے لیے ہے۔ 

اس پوسٹ پر کیوں اپلائی کرنا چاہیے؟

ان حضرات کے لیے یہ بہترین موقع ہے جو مڈل پاس ہیں اور سرکاری جاب ڈھونڈ رہے ہیں وہ ضرور اس میں اپلائی کریں،  آپ لوگوں کے لیے یہ اچھا ہے۔

اپلائی کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟

آپ کے پاس یہ کاغذات ہونے چاہئیں،  تعلیمی اسناد،  خو آپ نے کی ہوئی ہے جو تعلیم ان کو چاہیے وہ مڈل ہے، اور ڈومیسائل،  4 عدد پاسپورٹ سائز تصاویر،  شناختی کارڈ ، سرٹیفکیٹ وغیرہ یہ لازمی ہونے چاہیے۔
یہ تمام کاغذات اور ساتھ میں موبائل فون نمبر لکھ کر ایک خاکی لفافے میں ڈال کر ان کے ایڈریس پر ارسال کریں۔
اور کاغذات جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 مئی 2026 ہے۔ اس تاریخ کے بعد جو ایپلیکیشن آئیں گی وہ ریجیکٹ کر دی جائیں گی تو لہذا 12 مئی سے پہلے پہلے اپنی درخواست جمع کرائیں۔
عمر 18 سے 30 سال تک ہے۔
15 مئی کو ادارے والے آپ کا انٹرویو کریں گے۔

اشتہار 
Chhor Cantt Supply Jobs For Middle Pass Applicants

No comments:

Post a Comment